http://www.bbc.com/urdu/

مچھیارہ کا منصوبہ اور مقامی لوگ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے بین الاقوامی ماحولیاتی سہولت (گلوبل انوائرنمنٹ فسیلیٹی) کی معاونت سے مچھیارہ نیشنل پارک کا پانچ سالہ منصوبہ شروع کیا ہے۔

اس منصوبے کا مقصد پارک میں جنگلی حیات خاص طور پر نادر و نایاب جانوروں پرندوں اور ان کے مسکن کو مقامی لوگوں کی شراکت سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

واشنگٹن میں مقیم گلوبل انوائرنمنٹ فسیلیٹی(جی ای ایف) ایک خود مختار ماحولیاتی ادارہ ہے جو ترقی پذیر ممالک کو عالمی سطح کے ماحولیاتی منصوبوں کے لئے مدد فراہم کرتا ہے۔

جی ای ایف حکومت پاکستان کو تین نیشنل پارکس کے لئے ایک کروڑ آٹھ لاکھ امریکی ڈالر فراہم کر رہی ہے۔ ان پارکس میں صوبہ سرحد میں چترال کول، صوبہ بلوچستان میں ہنگول اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مچھیار نیشنل پارک شامل ہے۔ ادارے کی امداد میں مچھیارہ نیشنل پارک کا حصّہ تیس لاکھ بیالیس ہزار ڈالر بنتا ہے۔ جبکہ مقامی حکومت منصوبے کے لئے ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد رقم فراہم کر رہی ہے۔

جی ای ایف کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد ان پارکس کی عالمی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ قدرتی حسن سے مالا مال مظفر آباد کے شمال اور شمال مغرب میں 33000 ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا کشمیر کے اس علاقے کا پہلا اور واحد مچھیارہ نیشنل پارک مختلف اقسام کی جنگلی اور نایاب حیات مثلاً برفانی چیتا، نافے والا ہرن ریاڑ اور دان گیر وغیرہ کا مسکن ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے مچھیارہ کو 1996 میں نیشنل پارک کا درجہ دیا تھا مگر آج تک اس کا جامع اور مکمل سروے نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے وہاں پائے جانے والے قدرتی وسائل کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

جی ای ایف کی مالی معاونت سے شروع کئے گئے منصوبے کے ایک حصّے کے تحت اس پارک کے قدرتی وسائل کا صحیح اندازہ لگانے کے لئے مقامی حکومت ایک سروے کروا رہی ہے۔

جانوروں کے تحفظ کے متعلق بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ’ڈبلیو ڈبلیو ایف‘ سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے مچھیارہ نیشنل پارک کے منصوبے کے لئے مشاورتی خدمات حاصل کی ہیں۔

ڈبلیو ڈبللیو ایف کے ایک ماہر افتخار احمد نے مظفر آباد میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سروے کے ذریعے یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جائے گی کہ پارک میں کس طرح کے جانور، پرندے اور پودے پائے جاتے ہیں اور ان کی تعداد کتنی ہے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ ان جانوروں، پرندوں اور پودوں کو خاص طور پر اہم جنگلی حیات کو کس طرح کے خطرات لاحق ہیں اور مقامی آبادی کے ساتھ مل کر ان خطرات کو کس طرح کم کیا جا سکتا ہے۔

اس منصوبے کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اس پارک کے گرد و نواح میں بسنے والے لوگوں کے لئے اس منصوبے کا ایک تکلیف دہ پہلو بھی ہے۔ مچیھیارہ نیشنل پارک کے گرد و نواح میں لگ بھگ تیس ہیں اور یہاں بسنےوالے تقریبا پچاس ہزار افراد بالواسطہ یا بلاواسطہ اس پارک کے قدرتی وسائل پر انحصار کرتے ہیں۔

مقامی آبادی کے اس منصوبے کے بارے میں چند تحفظات بھی ہیں۔ چالیس سالہ غلام حسین کا کہنا ہے کہ ہم جلانے اور عمارتی لکڑی کے لیئے اس پارک کے جنگل پر مکمل طور پر انحصار کرتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس یہ ضرورت پورا کرنے کے لئے کوئی متبادل ذریعہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں اور سردیوں میں ہمارے ہاں بہت زیادہ برف پڑتی ہے اس لئے موسم سرما کے دوران بالن کا استعمال اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلانے کی لکڑی کے بغیر زندگی گزارنا بہت مشکل ہےاور سردیوں لکڑی دن رات جلانا پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ برف باری کے باعث ہمارے گھروں کو بھی نقصان پہنچتا ہےاور ہمیں اپنے گھروں کی مرمت کے لئے بھی وقتاً فوقتاً لکڑی درکار ہوتی ہے۔

غلام حیسن نے مزید کہا کہ اگر لکڑی نہیں ملے گی تو ہمارا گزارا کیسے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے لئے لکڑی کا انتظام نہ کیا گیا تو ہم اس منصوبے کی بھرپور مخالفت کریں گے۔

پینتیس سالہ فرید کا کہنا ہے کہ ہم گرمیوں کے تین چار مہینوں میں اپنے مال مویشیوں کو لے کر مچھیارہ نیشنل پارک کے جنگلات میں موجود بالائی چراگاہوں میں چلے جاتے ہیں۔

’ہمارے مال مویشی ان چراگاہوں پر پلتے ہیں اور سردیوں میں ہم اپنے دیہاتوں میں واپس لوٹ آتے ہیں۔ ہم کھیتی باڑی اور اپنے مال مویشیوں کو فروخت کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ ہمارا اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔ ہمیں یہ نہیں کہتے کہ نیشنل پارک کا منصوبہ نہ بنے لیکن اگر ہماری چراگاہیں بند کی گئیں تو ہمارے مال مویشی بھوکے مر جائیں گے اور ہم کہاں سے اپنے اور اپنے بچوں کے لئے روزی کما کر لائیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ لکڑی، بالن اور چراگاہوں پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے بصورت دیگر وہ منصوبے کی مخالفت کریں گے۔

اس منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر محمد یوسف قریشی کہتے ہیں کہ مقامی آبادی کو اس منصوبے میں شریک کر کے پارک کے وسائل پر دباؤ کم کیا جائےگا تاکہ جنگلی حیات خاص طور پر اہم جانوروں اور پرندوں کے مسکن کو بچایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ مقامی لوگوں کے تعاون سے جنگلی حیات خصوصاً نادر و نایاب جانوروں اور پرندوں کے مسکن کو تحفظ فراہم کر کے ان کو بچایا جائے اور انکی تعداد بڑھا کر ایک خاص سطح پر لائی جائے اور پھر اسے برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی ان وسائل پر جن میں عمارتی لکڑی، بالن اور چراگاہیں شامل ہیں بہت انحصار کرتی ہیں۔

قریشی صاحب کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں کو اس کا متبادل فراہم کر کے ان کی معاشرتی اور اقتصادی حالت میں بہتری لائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کام کے لیئے ایک Endowment Fund قائم کیا جا رہا ہے۔ جس کے تحت منصوبے کے ختم ہونے کے پانچ سال بعد بھی اس فنڈ کے منافع سے لوگوں کے ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

ماہر ماحولیات کہتے ہیں کہ پاکستان اور خاص طور پر اس کے زیرانتظام کشمیر میں ماضی میں حکومتوں نے جنگلی جانوروں، پرندوں اور خاص طور پر نایاب جنگلی حیات اور ان کے مسکن کو بچانے کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے نایاب جانور اور پرندے ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔

بین الاقوامی ادارے کی مدد سے اب یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ اہم جانوروں اور پرندوں کو جن کی نسل دنیا میں ختم ہوتی جا رہی ہے بچایا جا سکے۔ اگر مچھیارہ نیشنل پارک کے منصوبے پر سنجیدگی سے کام ہوتا ہے اور مقامی آبادی کی ضروریات کا خیال رکھا گیا تو اس بات کا امکان ہے کہ یہ منصوبہ جنگلی حیات کو بچانے میں اہم کردار ادا کرے۔