دہلی میں میرا ایک دوست ہے، منوج۔
وہ ایک آل راؤنڈر ہے اور اچھی کرکٹ کھیلتا ہے۔ چند سال قبل منوج بمبئی گیا تھا اور اس نے شہر کے تاریخی یا سیاحتی مقامات کا دورہ کرنے سے قبل باندرہ میں اس کالونی کی ’زیارت‘ کی جہاں سچن تندولکر رہتے ہیں۔ اُس پارک میں گیا جہاں سچن نے بچپن میں کرکٹ کھیلی۔ چند گھنٹے کی خاموش سیر کے بعد انہوں نے پارک سے مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور وہاں سے نکل گیا۔ اس کے بمبئیا دوستوں نے لاکھ روکا لیکن منوج واپس دہلی کے لئے روانہ ہوگیا۔ اس کا مشن پورا ہو چکا تھا۔
دہلی میں دو ایک دوستوں نے منوج کا کافی مزاق اڑایا۔
سڈنی میں آسٹریلیا کے خلاف چوتھے ٹیسٹ میں سچن کی دو سو اکتالیس رن ناٹ آؤٹ کی لمبی اور پر مشقت اننگز کے بعد مجھے منوج کی یاد آئی۔
بھارت میں کرکٹ کھلاڑیوں کو بہت جلد دیوتا بنا دیا جاتا ہے اور پھر سنگھاسن سے اتار بھی دیا جاتا ہے۔ سچن کے ساتھ ابھی یہ نہیں ہوا لیکن کئی شائقین، تجزیہ کار، صحافی اور چند ’نا بینا مدیروں‘ نے پوری تیاری کر لی تھی۔ لیکن کرکٹ کے اس مبینہ دیوتا نے انسانی قوت ارادی اور محنت سے سڈنی کی وکٹ پر دس گھنٹے سے زیادہ وقت (چھ سو گیارہ منٹ) گزارا، اپنی سست ترین سنچریوں میں سے ایک بنائی اور بہت کچھ ثابت کر دیا۔ میرے دوست منوج کی ایک بار پھر لاج بھی رکھ لی۔
سچن تیندولکر نے آسٹریلیا میں چوتھے ٹیسٹ میں اپنی ڈبل سنچری کے دوران تینتیس میں سے قریب بیس چوکے آن سائڈ پر کھیلے۔ (کرکٹ کے کوچ اکثر کہتے ہیں کہ ایک بیٹسمین کے لئے ایک پرفیکٹ آن ڈروایئو کھیلنا سب سے بڑا کمال اور مشکل کام ہوتا ہے۔) سچن نے، جو وکٹ کے چاروں طرف کھل کر شاٹ کھیلنے کے عادی ہیں، کہا کہ یہ ان کی حکمت عملی کا حصہ تھا، کیونکہ وہ پچھلی کئی مرتبہ آف سائڈ پر ہلکے پھلکے انداز میں آّؤٹ ہو ئے ہیں۔ سچن آف سائڈ پر بہترین کور ڈرایئو کے علاوہ اپنا منفرد کٹ شاٹ کھیلتے ہیں اور اپنا ہی ایجاد کیا ہوا ’سواٹ کٹ‘ جو کبھی کبھار پوائنٹ کے اوپر سے چھکے کے لئے بھی جاتا ہے۔ (شعیب اختر کو یاد ہوگا!) ۔
لیکن سچن نے اس لمبی اننگز کے دوران وہ سارے مواقع جانے دیئے جن پر وہ اکثر و بیشتر دھواں دار شاٹ کھیلتے ہیں۔ وہ تیز طرار ایکسٹرا کور ڈرایئو ہو، خوب صورت آف ڈرایئو ہو یا پھر دنیا کی سب سے دلکش ’آن دی اپ‘ کور ڈرایئو ہو، سچن نے انتظار کیا۔ (’مجھے تقریباً ایک دن انتظار کرنا پڑا۔۔‘) تب تک جب تک کہ آسٹریلوی باؤلروں نے ان کو وہاں گیند نہیں کرائی جہاں وہ چاہتے تھے۔ سچن نے کہا یہ ان کا گیم پلان تھا، جو کامیاب رہا۔
بعض اوقات ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کسی کرب میں ہیں، غالبًا گزشتہ چند ماہ کی تنقید اور کروڑوں لوگوں کی توقعات کی وجہ سے۔ آسٹریلیا میں اس سیریز کا آخری ٹیسٹ اور اس پر یہ کہ ہ باقی سارے بھارتی بیٹسمین آسٹریلوی باؤلروں کو ایسے کھیل رہے تھے کہ جیسے بہت ہی معمولی قسم کا باؤلنگ اٹیک ہو، چاہے وہ ایڈلیڈ میں راہول ڈراوِڈ کی ترشی ہوئی، کلاسیکیی ٹیسٹ اننگز ہو یا لکشمن کی جادوئی کلائیاں، یا پھر سیہواگ کا ایک جارح کی طرح آسٹریلوی فاسٹ باؤلروں پر ٹوٹ پڑنا۔
میں اس سیریز کے آغاز سے ہی اپنے حلقۂ احباب سے کہتا رہا ہوں کہ سچن مکمل طور پر فارم سے باہر نہیں ہیں، ایک بیٹسمین جو ورلڈ کپ میں چھ سو تہتر رن بناتا ہے، جن میں پاکستان کے خلاف ایک یادگار اننگز بھی شامل تھی، آؤٹ آف فارم نہیں ہو سکتا۔ تو پھر دو ہزار تین میں ٹیسٹ میچوں میں کیا ہوا؟ سچن نے جیسے خود بھی کہا ’میں فارم سے باہر نہیں تھا، بس اُس ایک گیند پر آؤٹ ہوتا رہا ہوں جس سے عام طور بیٹ ہوا جا سکتا ہے۔‘ اور پھر اممپائر کی مہربانی نے رہی سہی قصر پوری کر دی۔
اور اگر چودہ برس کے شاندار کیریئر میں ایک سال ایسا بھی آتا ہے جس میں وہ ٹیسٹ سطح پر زیادہ کامیاب نہیں ہوتے تو کیا ہوا؟ کیا بڑے کھلاڑیوں کو ’بیڈ پیچ‘ کا حق نہیں؟
دو سو اکتالیس ناٹ آؤٹ سے قبل سچن نے پانچ میچوں میں کل ایک سو تریپن رن بنائے تھے، یعنی صرف سترہ رن کی اوسط، جبکہ اس سے قبل ان کی ٹیسٹ اوسط اٹھاون کے قریب تھی۔ دو ہزار تین میں انہوں نے ایک بھی ٹیسٹ سنچری نہیں بنائی۔
اس سے قبل انہیں کبھی سنچری کے لئے چار سے زیادہ ٹیسٹ میچوں کا انتظار نہیں کرنا پڑا ہے، بس چودہ برس کے شاندار کھیل میں ایک سال ایسا آگیا کہ جس میں سچن ٹھہر سے گئے۔ کئی بڑے کھلاڑی اس مرحلے سے گزر چکے ہیں، ماضی میں گواسکر، ظہیر عباس، بارڈر اور موجودہ کھلاڑیوں میں لارا اور یہاں تک کہ جدید دور کے سخت جان بیٹسمین سٹیو واء بھی۔
لیکن۔۔۔
پیج تھری کے صحافیوں نے سچن کی آبیچوری لکھنا شروع کر دی تھی، ویب سائٹوں نے عجیب و غریب قسم کے ووٹ چلائے،’ کیا سچن اب دیوتا نہیں رہا‘؟ معاف کریں۔
تاہم وہ ایک بنیادی بات بھول گئے، فارم ایک آنی جانی شے ہے، جس سے عام کھلاڑی متاثر ہوتے ہیں۔ کلاس ایک مستقل صفت ہے، جو سچن میں دور حاضر کے کرکٹروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔
ذرا غور کیجئے۔۔۔ سچن نے اب تک بتیس ٹیسٹ سنچریاں بنائی ہیں، صرف ایک سوگیارہ میچوں میں، واء کو ایک سو سڑسھ میچ لگے اور گواسکر کو ایک سو پچیس۔ صرف اس عظیم بیٹسمین بریڈمین نے، جنہوں نے انیس سو چھیانوے میں کہا تھا کہ اگر جدید دور میں انہیں اپنی جھلک کسی بیٹسمین میں دکھتی ہے تو وہ تندولکر ہے، انتیس سنچریاں صرف باون میچوں میں بنائی، اور سنئیے۔۔۔
ایک روزہ میچوں میں تندولکر کی چھتیس سنچریاں ہیں ۔۔ماضی، حال اور شاید مستقبل میں کسی نے انتی نہیں بنائی۔ سچن نے کھیل کی دونوں شکلوں میں کل ایک سو نصف سنچریاں بھی بنائی ہیں اور ایک روزہ میچوں میں بارہ ہزار سے زیادہ اور ٹیسٹ میچوں میں نو ہزار رن کے کلب میں داخل ہو چکے ہیں۔
سچن کی عمر تیس برس ہے، وہ مزید چار یا پانچ برس کرکٹ کھیل سکتے ہیں، خدا جانے تب تک وہ سنچیروں اور رنز کے کتنے بلند پہاڑ کھڑے کر جائیں گے۔
گیارہ برس قبل جب گھنگریالے بال والے ایک انیس سالہ لڑکے نے آسٹریلیا کے اپنے پہلے دورے میں بھارت کی طرف سے سب سے زیادہ رن بنائے تھے، اور اسی انداز میں ایلن بارڈر کی عظیم ٹیم کے خلاف یکے بعد دیگر ٹیسٹ سنچریاں بنائی تھی۔ پہلی ایک سو اڑتالیس سڈنی میں اور اس کے بعد ایک سو چھپن پرتھ میں۔۔۔ تب بھی چند بھارتی صحافیوں نے کہا تھا، دیکھو ہم نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ وہ خدا ہے۔۔۔
بھارتی ثقافت میں دیوتاؤں کا بڑا چلن ہے، شاید اسی لیے کبھی سچن کو تو کبھی ڈراوڈ کو اس گدی پر بٹھایا جاتا ہے، اور غالباً اسی لیے ان خداؤں سے جب کوئی انسانی فعل ہو جاتاہے، مثلاً لیگ سائڈ پر باہر جاتی ہوئی ہوئی گیند کا بلے کا باہری کنارا پکڑنا، یا پھر چند میچوں میں بڑا سکور بنانے میں ناکام ہونا، تو کرکٹ کے بڑے بڑے تجزیہ کاروں سے بھی رہا نہیں جاتا۔
بہر حال غصہ اپنی جگہ، چوتھے ٹیسٹ میں سچن نے اپنے کیریئر کی عمدہ ترین اننگز میں سے ایک کھیلی ہے۔ شاٹ سیلیکشن کی وجہ سے نہیں، اور نا ہی اس کی خوب صورتی کے لئے بلکہ اس کے صبر، اطمینان اور تحمل کی بنا پر۔ جس میں انہوں نے اپنے قدرتی کھیل کو دبائے رکھا، اپنے’نیچرل سٹروک پلے‘ کو بھی قابو میں رکھا، کیونکہ انہیں علم تھا کہ سب کی نظریں ان پر جمی ہوئی ہیں، ان آسٹریلوی تماشایئوں کی بھی جو میچ صرف ان کے لئے دیکھنے آئے تھے۔
ایک ایسی اننگز جس میں انہوں نے جارحانہ کھیل اور باؤلروں پر غالب ہونے پر کریز پر ٹھہرنے اور اپنی وکٹ نہ دینے کو ترجیح دی، شاید اسی لئے دو سو رن عبور کرنے کے بعد وہ ارنیسٹ ہیمنگوے کی ’گریس انڈر پریشر‘ کی جیتی جاگتی تصویر نظر آئے۔
جانتے ہیں میرے دوست منوج نے اس مٹی کا کیا کیا جو وہ بمبئی کے اس پارک سے لائے تھے جہاں سچن بچپن میں کرکٹ کھیلتے تھے؟
منوج نے اپنی الماری کی اوپر کی دراز میں اسے رکھا ہے اور ہر اتوار کو اپنے میچ سے پہلے اس چھو کر میدان کی طرف روانہ ہوتا ہے۔