Friday, 09 July, 2004, 15:29 GMT 20:29 PST
ملنگ ایاز بابا
گدی نشین امیر غازی بابا، لنڈی ارباب، پشاور
پیری مریدی کی اپنی ایک مٹھاس ہوتی ہے اور جسے ایک بار یہ مزا لگ جائے اسے پھر مزاروں کے علاوہ کہیں اور سکون نہیں ملتا۔ اس میں عاجزی ہے، عبادت ہے، ذکر ہے اور سب سے بڑھ کر سکون ہے جو آجکل کے دور میں مشکل سے ملتاہے۔
غازی بابا کہاں سے آئے کوئی نہیں جانتا لیکن مقامی لوگوں میں اکثریت کا خیال ہے کہ بابا تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے افغانستان کے شہر کابل سے تشریف لائے تھے اور انہوں نے انگریزوں کے خلاف جنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔ امیر غازی بابا کا مزار’دانتوں والے بابا‘ کے نام سے بھی مشہور ہے۔
مزار کی کرامت یہ ہے کہ دانت کی تکلیف میں مبتلا کوئی شخص اگر مزار کے اندر پڑے درخت کے خشک تنوں میں ایک کیل ٹھونکے تو گھر پہنچنے سے پہلے دانت کی تکلیف دور ہو جاتی ہے۔
گاؤں کے بزرگ لوگ کہتے ہیں کہ اسی نوے سال پہلے ایک مقامی شخص بیل گاڑی پر سامان لے جا رہا تھا۔ جب وہ بابا کے مزار کے قریب پہنچا تو بیل کا پاؤں ٹوٹ گیا اور سامان زمین پر آ رہا۔ اس شخص کو بابا نے خواب میں کہا کہ یہ بیل میرے مزار پر صدقہ کر دو۔ اس نے ایسا ہی کیا اور جس جگہ بیل کا پاؤں ٹوٹا تھا وہاں پر ایک تختہ نکل آیا جس میں کیلیں ٹھونکی ہوئی تھی۔
اس شخص نے دوسری رات بھی بابا کو خواب میں دیکھا۔ بابا نے کہا کہ یہ تختہ میرے مزار پر لے جاؤ اور جس کسی کے دانت میں تکلیف یا درد ہو وہ میرے مزار پر آ کر اسی تختے میں کیل ٹھونکے، امید ہے کہ گھر پہنچنے سے پہلے اس کا درد دور ہو جائے گا۔
پہلے اس مزار پر کیلیں ٹھونکنے کے لیے چھوٹے چھوٹے تختے نصب کیےگئے تھے لیکن لوگوں نے انہیں کیلوں سے بھر دیا جس کے بعد اب ہم نے کیلیں ٹھونکنے کےلیے درختوں کے بڑے بڑے تنے رکھے ہوئے ہیں۔
درجنوں کی تعداد میں لوگ روزانہ اس مزار پر آتے ہیں جن میں اکثریت خواتین کی ہوتی ہے۔ میں ابھی تک کسی ایسے شخص کو نہیں ملا جو اس مزار سے بےمراد لوٹا ہو۔ لنڈی ارباب کی پوری آبادی بابا کی مرید ہے۔ ایک کنال رقبے پر بنے اس مزار کو جب بھی چندہ درکار ہوا تو مقامی لوگوں نے بڑھ چڑھ کر ہر طرح کی امداد کی۔
ہم ہر برس جون کے مہینے میں بابا کے مزار پر عرس مناتے ہیں اور عقیدت مند دور دراز علاقوں سےعرس میں شرکت کرتے ہیں۔
میں گزشتہ پچیس سال سے سید امیر غازی بابا کے مزار پر صفائی کا کام کرتا ہوں۔ میں گورنر ہاؤس میں مالی تھا۔ ریٹائر ہونے کے بعد ساری زندگی غازی بابا کے مزار کے لیے وقف کر دی۔
مجھے بچپن سے ہی مزاروں پر جانے کا شوق تھا۔ قریبی علاقوں میں جس مزار پر عرس ہوتا، میں وہاں پہنچ جاتا اور کئی دنوں تک مزار پر رہتا۔ غازی بابا کا مزار چونکہ میرے گھر کے قریب تھا اس لیے میں یہیں آیا کرتا تھا۔
میرے دو بچے ہیں اور میں ایک چھوٹے سے گھر میں رہتا ہوں۔ دن کا بیشتر حصہ مزار پر گزارتا ہوں اور رات کو گھر جاتا ہوں۔
میری ایک ہی آرزو ہے کہ جس چیز کے لیے محنت کر رہا ہوں وہ حاصل ہو جائے۔ میں تو ایک ملنگ آدمی ہوں اور اسی حال میں رہنا چاہتا ہوں۔
نوٹ: ملنگ ایاز بابا نے اپنی یہ کہانی ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے گفتگو کے دوران سنائی۔ اگر آپ بھی ایسے یا اس سے ملتے جلتے حالات سے گزرے ہوں تو اپنی کہانی ہمیں براہ راست بھیج سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام شائع نہیں کریں گے۔