آرکائیو ستمبر 2007

خون خشک ہو گیا ہے

اصناف:

عارف شمیم|2007-09-25 ،13:09

تبصرے (9)

میں سمجھتا تھا کہ بیس اوورز میں جان جلد چھوٹ جائے گی اور کوئی ہارے کوئی جیتے آرام سے گھر جاتے تک سب بھول چکے ہوں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ’یار مصباح تم نے سیدھا کھیلتے کھیلتے یہ الٹی شاٹ کیوں مار دی۔‘ میں کل کا مصباح سے یہ سوال پوچھ رہا ہوں۔ اور میرا خیال ہے کہ وہ بیچارہ تمام عمر اپنے آپ سے یہ سوال پوچھتا رہے گا کہ ’میں نے ایسا کیوں کیا؟‘
misbah_ul_haq.jpg

جاری رکھیے

دس بیس کا کام نہیں

سچ ہے کہ زندگی دوسرا چانس ضرور دیتی ہے۔ ویسٹ انڈیز میں ہونے والے کرکٹ کے عالمی کپ میں آئرلینڈ کے ہاتھوں بدترین شکست کھانے والی پاکستانی ٹیم آسٹریلیا جیسی دیو قامت ٹیم کو شکست دے چکی ہے۔ انڈیا کے یوراج سنگھ آسٹریلوی بالروں کے چھکے چھڑا چکے ہیں۔ بھئی یہ کیا ہو رہا ہے۔ کیا گٹھ جوڑ ہے آسٹریلیا کے خلاف۔ shoaib_dhoni152.jpg

جاری رکھیے

مش۔بش پٹاری کا سانپ

آپ نے کبھی شہر کے چوک پر عطائیوں کو مجمعے لگا کر اپنے معجون اور نیم حکیمانہ نسخے بیچتے دیکھا ہوگا جو شروع میں ہی ایک ایسے ’خطرناک سانپ‘ کا ذکر کر کے لوگوں کے پیروں میں مقناطیس ڈال لیتے ہیں کہ وہ آخر میں اپنی پٹاری میں سے ایسے خطرناک سنگ چور سانپ کو نکاليں گے جو انہوں نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔
20070125073307bush_mush.jpg

جاری رکھیے

قصۂ محمود

محمود احمدی نژاد نے ایوانِ صدر میں داخلے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ سارے قیمتی قالین تہران کی مساجد کو بانٹ دئیے اور ملاقاتیوں والے کمرے میں سے عالیشان فرنیچر اٹھوا کر لکڑی کی عام کرسیاں ڈلوادیں۔
blo_wusat_iran_150.jpg

جاری رکھیے

گیارہ ستمبر کی آگ

یہ صرف ستمبر کی صبح نیویارک شہر میں نہیں ہوئی تھی بلکہ اس دن سے لیکر آج تک گیارہ ستمبر انسان کی انسان کے ساتھ ہر روز ہر جگہ ہو رہی ہے۔ دنیا کے ہر ہوائي اڈے پر، ہر پُر کیے جانے والے کاغذ پر، دفتر اور بازاروں میں، عراق میں افغانستان میں، دارفور میں، پاکستان میں، انسان کی شکلوں، آنکھوں اور بالوں کے رنگ اور ناموں پر۔
200609120858369-11_indians_praying203.jpg

جاری رکھیے

ڈیل ویل لگی رہے

گزشتہ تین ہفتوں سے میں چھٹیوں پر تھا اور ان چھٹیوں میں اتنا تھک گیا ہوں کہ چھٹیوں کی تھکن اتارنے کے لیے چھٹیاں کرنے کو دل چاہتا ہے۔
nawaz_sharif.jpg

جاری رکھیے

کاش ایسا ہوتا۔۔۔۔

کسی نے کہا کہ کیا ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ ملک کے دونوں سابق وزرائے اعظم جن کے پاس ’ھذا من فضل ربی‘ تو بہت ہے، ایک طیارہ چارٹر کرواتے جسے ’پاکستان کی طرف پرواز جمہوریت‘ یا ’ فلائیٹ آف ڈیموکریسی ٹو پاکستان‘ کا نام دیکر ایک ساتھ وطن واپسی کا اعلان کرتے۔ اگر خواہشیں مربّے کھانے والے گھوڑے ہوتے تو سارے بھکاری سرے یا سرور محل میں رہ رہے ہوتے لیکن کاش ایسا ہوتا۔۔۔
benazir_nawaz_155.jpg

جاری رکھیے

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔